ابنا: دونوں رہنماﺅں نے بدھ کو شاہی محل میں ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات‘ مشرق وسطیٰ و جنوبی ایشیا کی صورتحال اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر زرداری نے اپنی آمد کے فوری بعد جدہ کے شاہی محل میں شاہ عبداللہ سے 75 منٹ طویل ملاقات کی۔ وزیر داخلہ رحمن ملک اور سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صدر زرداری نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سیاسی استحکام کا حامی ہے اور تشدد کے خلاف ہے۔ شاہ عبداللہ نے عسکریت پسندی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا پرعزم دوست ثابت ہوا ہے۔ اس سے قبل صدر آصف زرداری سعودی عرب کے دو روزہ اہم دورے پر بدھ کو یہاں پہنچے تو سعودی عرب کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز السعود، گورنر مکہ شہزادہ خالد الفیصل اور جدہ کے میئر کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا خیر مقدم کیا۔ فرحت اللہ بابر نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ صدر کے دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو تقویت دینا اور خطے کے ممالک میں امن، سلامتی اور سیاسی استحکام کے امور پر مشاورتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ آن لائن کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ آئی این پی کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیتا رہے گا۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری نے سعودی فرمانروا کو اپنے حالیہ دورہ ایران اور کابل کے بارے میں بھی آگاہ کیا جبکہ ان کی صحت دریافت کرتے ہوئے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا۔ اے پی اے کے مطابق ایک سعودی اخبار کو انٹروبو میں صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شاہ عبداللہ کے وژن کی بدولت بین المذاہب مکالمے اور عرب امن منصوبے کی شروعات ہوئی، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ان کا دورہ سعودی عرب ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب خطے میں اہم سیاسی پیش رفت جاری ہے۔ دونوں ملکوں کیلئے ضروری ہے کہ مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کریں۔ انہوں نے سیلاب زدگان کیلئے سعودی عرب کی امداد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی ہے۔...............
/169